بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا کشمیر کا جہاد شرعی جھاد ہے؟

سوال

کیا جہادِ کشمیر شرعی جہاد ہے؟

جواب

 کشمیر  کے سیاسی و عسکری اَحوال سے واقف کار علماء اور واقفانِ اَحوال، شریعتِ اسلامیہ کی روشنی میں مسلح تصادم میں مسلمانوں کی کار روائی کو جہاد قرار دیں تو وہ یقیناً  جہادِ شرعی ہے، بالخصوص کشمیر  پر مسلط غیر مسلم طاقتوں کے خلاف ان کے انسداد یا انخلا  کے لیے جذبہ ایمان، اعلاءِ  کلمۃ اللہ اور استخلاصِ وطن کی غرض سے مسلح جد و جہد ایسے ہی جہاد ہے، جیسے ہندوستان سے برطانوی سامراج اور خود افغانستان سے روسی افواج کے انخلا  کے لیے کی جانے والی کوششیں جہاد تھیں۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200209
تاریخ24-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں