بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

میت کو دوسرے شہر منتقل کرنا

سوال

ایک شخص کا انتقال ایک شہر میں ہوا، وہاں اس کی رہائش، کاروبار یا نوکری ہے،  کیا اُس کی تدفین آبائی علاقے میں لے جا کر کی جاسکتی ہے؟ میت کو ایک شہر سے دوسرےشہر منتقل کرنے کے بارے میں اَحنَاف کا موقف کیا ہے؟ راجح قول مستند حوالہ جات کے ساتھ بیان کریں۔

جواب

کسی مجبوری کے بغیر میت کو  ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کرنا خلافِ اولیٰ ہے،  الا یہ کہ یہ دوسرا مقام اس میت کے خاندان کا مدفن ہو۔  (کفایت المفتی  4/ 62 ط: دار الاشاعت)

الفتاوى الهندية (4 / 485):

"ويستحب في القتيل والميت دفنه في المكان الذي مات في مقابر أولئك القوم، وإن نقل قبل الدفن إلى قدر ميل أو ميلين فلا بأس به، كذا في الخلاصة. وكذا لو مات في غير بلده يستحب تركه فإن نقل إلى مصر آخر لا بأس به".  فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200198
تاریخ23-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں