بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا

سوال

پہلا خطبہ جب ہوجائے اورامام صاحب بیٹھ جائیں اس دوران اکثر لوگ ہاتھ اوٹھا کر دعا کرتے ہیں، کیا ہاتھ اٹھانا درست ہے؟  میں نے سنا ہے بدعت ہے ؟

جواب

دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا  ثابت نہیں،  لہذا  بغیر  ہاتھ  اٹھائے دل دل میں دعا کی جائے۔ 

واضح رہے کہ جمعے کے دن خطبے کے لیے امام کے منبر پر آنے سے لے کر نماز تک حاضرین کے لیے حکم ہے کہ وہ خاموش رہیں اور با ادب، سکون و وقار سے بیٹھیں، اس دوران دل ہی دل میں ذکر کرنے یا درود پڑھنے کی اجازت ہے، زبان سے ذکر بھی نہیں کرنا چاہیے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200151
تاریخ22-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں