بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پرائز بانڈ رکھنے کا حکم

سوال

کیا پرائز بانڈ رکھنا جائز ہے؟

جواب

پرائز (انعامی) بونڈ سود اور جوئے کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے؛ اس لیے انعام اور نفع کی غرض سے کسی بھی قسم کے پرائز (انعامی) بونڈ خریدنا یا اس رقم سے نفع اٹھانا جائز نہیں ہے۔ 

اگر کسی نے لاعلمی کی وجہ سے لے لیے ہوں یا غیر اختیاری طور پر (مثلاً:  ترکے میں) اس کی ملکیت میں آگئے ہوں تو پرائز بانڈ کی اصل مالیت کے برابر رقم لینا جائز ہوگا، اضافی رقم لینے کی اجازت نہیں ہوگی، اگر وصول کرلی ہو تو اس کے بقدر رقم مستحقِ زکاۃ غریب کو ثواب کی نیت کے بغیر مالک بناکر دینا ضروری ہوگا۔

أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (2/ 582):

"وحقيقته تمليك المال على المخاطرة".فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200129
تاریخ21-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں