امام نے تیسری رکعت میں سورہ فاتحہ بلند آواز سے پڑھ لی
سوال
جب امام عشاء یا مغرب کی تیسری رکعت میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھے تو کیا سجدہ سہوہ واجب ہوتا ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں (اگر تین تسبیح یا اس سے زیادہ مقدار جہراً تلاوت کی تو) سجدہ سہو کرنا واجب ہوگا، اگر سجدہ سہو نہیں کیا تو اس نماز کے وقت کے اندر اعادہ کرنا لازم ہوگا، اور وقت کے اندر اعادہ نہیں کیا تو اب اعادہ واجب نہیں ہے، البتہ مستحب ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(وَمِنْهَا: الْجَهْرُ وَالْإِخْفَاءُ) حَتَّى لَوْ جَهَرَ فِيمَا يُخَافَتُ أَوْ خَافَتَ فِيمَا يُجْهَرُ وَجَبَ عَلَيْهِ سُجُودُ السَّهْوِ، وَاخْتَلَفُوا فِي مِقْدَارِ مَا يَجِبُ بِهِ السَّهْوُ مِنْهُمَا، قِيلَ: يُعْتَبَرُ فِي الْفَصْلَيْنِ بِقَدْرِ مَا تَجُوزُ بِهِ الصَّلَاةُ وَهُوَ الْأَصَحُّ، وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْفَاتِحَةِ وَغَيْرِهَا، وَالْمُنْفَرِدُ لَايَجِبُ عَلَيْهِ السَّهْوُ بِالْجَهْرِ وَالْإِخْفَاءِ؛ لِأَنَّهُمَا مِنْ خَصَائِصِ الْجَمَاعَةِ، هَكَذَا فِي التَّبْيِينِ". (الْبَابُ الثَّانِي عَشَرَ فِي سُجُودِ السَّهْوِ، ١/ ١٢٨) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

