بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نفلی قربانی کا حصہ ملانے کے بعد نیت تبدیل کرنا

سوال

میت کی طرف سے ایصالِ  ثواب کے لیے قربانی میں ایک حصہ ڈالا تھا،  اس کے بعد سوچا کہ اس حصہ میں اپنی واجب قربانی کی نیت کر لیتا ہوں، جب کہ میت کی طرف سے ایصالِ  ثواب کے  لیے رقم مسجد میں جمع کرادوں گا تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی شخص میت کے ایصالِ  ثواب کے لیے قربانی کے جانور میں حصہ ملائے اور پھر جانور کے ذبح سے پہلے پہلے اپنی نیت تبدیل کردے یعنی بجائے میت کی جانب سے قربانی کے اپنی قربانی کی ادائیگی کی نیت کرلے تو یہ درست ہے، ایسی صورت میں قربانی ادا ہوجائے گی۔  البتہ ایامِ  نحر میں رقم صدقہ کرنے کے بجائے قربانی کرنا اور اس کا ثواب میت کو پہنچانا زیادہ افضل ہے۔ (فتاوی رحیمیہ 10/30)فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200084
تاریخ19-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں