بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ تعالی کو گواہ بنا کر نکاح کرنا

سوال

کیا اللہ کو  گواہ  بنا کے  نکاح  ہوجاتا ہے؟  جب کہ نکاح سے ان کو روکا جا رہا ہو۔

جواب

نکاح منعقد  ہونے  کے  لیے دولہا  و  دلہن  کی جانب سے ایجاب و قبول کرتے وقت شرعی گواہوں (دو مرد یا ایک مرد  اور دو عورتوں) کا موجود ہونا شرعاً ضروری ہوتا ہے، پس گواہوں کی غیر موجودگی میں اللہ کو گواہ بنا کر لڑکا لڑکی  کے ایجاب و قبول کرنے سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہو گا۔

الفتاوى الهندية (1/ 268):
"ومن تزوج امرأةً بشهادة الله ورسوله لايجوز النكاح، كذا في التجنيس والمزيد".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200081
تاریخ19-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں