غیر محرم کا جھوٹا کھانا
سوال
کیا غیر محرم کا جھوٹا کھانا جائز ہے؟
جواب
اجنبی مرداورعورتوں کاایک دوسرے کا جھوٹا کھانا پینا فتنے کے اندیشے کی وجہ سے مکروہ ہے۔
حضرت مولانامحمدیوسف لدھیانوی شہیدرحمہ اللہ لکھتے ہیں:
’’میاں بیوی کاجھوٹاکھاناپیناجائزہے،اورمحرم مردوں اورعورتوں کابھی کھاناپیناجائزہے،اجنبی مردوں ، عورتوں کا جھوٹاکھانا پینا فتنے کے اندیشے کی بنا پر مکروہ ہے‘‘۔ (وکذا فی الشامیہ) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144102200070
تاریخ19-10-2019

