بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 جُمادى الأولى 1448ھ 28 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آلاء یا الاء نام رکھنا

سوال

’’آلاء‘‘  یا ’’الاء‘‘  نام کے معنی؟

جواب

’’آلاء‘‘  ’’إلْيٌ ‘‘کی جمع ہے، جس کے معنی نعمت کے ہیں، مذکورہ نام رکھ سکتے ہیں۔

(معجم الغني)

"إلْي جمع: آلاءٌ- إِلْيُهُ عَلَيَّ كَبيرٌ : نِعْمَتُهُ، آلاَهُ.الأعراف آية 69فاذْكُرُوا آلاءٌ- اللهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (قرآن)".

جب کہ ’’أَلاء‘‘ ایک سرسبز و شاداب درخت کا نام ہے جس کا کڑوا پھل ہوتا ہے۔ ’’الاء‘‘  نام نہ رکھا جائے۔

(معجم الرائد) :

’’أَلاء :(اسم) 1- شجر دائم الخضرة، له ثمر مر‘‘. فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200041
تاریخ17-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں