بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مرد کے لیے انگوٹھی پہننے اور انگوٹھی کے ساتھ نماز کا حکم

سوال

مرد کے لیے  چاندی کی انگوٹھی  کی  حیثیت  کیا ہے؟ شرعی طور پر جائز  مقدار  بھی متعین کریں۔ نیز یہ بھی بتادیں کہ باقی انگوٹھیوں کا کیا حکم ہے؟ اور انگوٹھی کے ساتھ  نماز کا کیا حکم ہے؟ 

جواب

مردوں کےلیے انگوٹھی پہننے کا حکم یہ ہے:

 ایک مثقال (ساڑھے چار ماشے  یعنی۴گرام،۳۷۴ملی گرام (4.374 gm) سے کم  وزن کی  چاندی کی انگوٹھی یا چھلّا پہننا جائز ہے، چاندی کے علاوہ کسی اور دھات کی انگوٹھی پہننا جائز نہیں ہے، البتہ عام آدمی کے لیے چاندی کی  انگوٹھی بھی  نہ پہننا بہتر اور افضل ہے۔ البتہ انگوٹھی پہن کر بھی نماز ہوجاتی ہے۔ 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 358):

"(ولايتحلى) الرجل (بذهب وفضة)  مطلقاً، (إلا بخاتم ومنطقة وجلية سيف منها) أي الفضة ... (ولايتختم) إلا بالفضة؛ لحصول الاستغناء بها، فيحرم (بغيرها كحجر) ... ولايزيده على مثقال". فقط  واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144102200009
تاریخ16-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں