بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روز جمعہ تقریر کے بعد اذان اور خطبہ سے پہلے (دعا) کرنا

سوال

روزِ جمعہ تقریر کے بعد اذان اور خطبہ سے پہلے دعا  کرنا کیسا ہے؟

جواب

اس وقت میں دعا کرنا جائز ہے۔ البتہ ہمارے بلاد میں عام طور پر اس وقت سنتوں کی ادائیگی کا وقت دیا جاتاہے، اگر کسی نے جمعے سے پہلے کی سنتیں ادا نہ کی ہوں تو اسے چاہیے کہ پہلے سنتوں کی ادائیگی کرلے، پھر اگر وقت ملتاہے تو دعا کرسکتاہے۔

النسائي، عن أبي هريرة، الصفحة أو الرقم: 1429:
"رُوي عن أبي هريرة رضي الله عنه أنه قال: قالَ رسولُ اللَّهِ صلَّى اللَّهُ علَيهِ وسلَّمَ: خيرُ يومٍ طلعت فيهِ الشَّمسُ يومُ الجمعةِ، فيهِ خُلِقَ آدمُ، وفيهِ أُهْبِطَ، وفيهِ تيبَ علَيهِ، وفيهِ قُبِضَ، وفيهِ تقومُ السَّاعةُ، ما علَى الأرضِ من دابَّةٍ إلَّا وَهيَ تصبحُ يومَ الجمعةِ مُصيخةً، حتَّى تطلعَ الشَّمسُ شفقًا منَ السَّاعةِ إلَّا ابنَ آدمَ، وفيهِ ساعةٌ لايصادفُها مؤمنٌ وَهوَ في الصَّلاةِ يسألُ اللَّهَ فيها شيئًا إلَّا أعطاهُ إيَّاه، فقالَ كعبٌ: ذلِكَ يومٌ في كلِّ سَنةٍ، فقلتُ: بل هيَ في كلِّ جُمُعةٍ". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201993
تاریخ20-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں