بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شوہر کی وفات کی عدت میں عورت کا مدرسہ جانا

سوال

اگر کسی عورت کا شوہر مرگیا ہو  تو یہ عورت (عدت میں) مدرسہ جاسکتی ہے یا نہیں ؟

جواب

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے اس پر  اپنے شوہر  کے انتقال کے دن سے (قمری اعتبار سے) چار مہینے  دس دن عدت گزارنا لازم ہے، اور اس دوران  شدید ضرورت کے بغیر گھر سے نکلنا،  زیب وزینت، بناؤسنگھار  کرنا، خوش بو  لگانا، اور  نئے کپڑے وغیرہ پہننا جائز نہیں ہے، لہذا عدت کے دوران مذکورہ عورت کے لیے مدرسہ جانا جائز نہیں ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 536):
"(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201987
تاریخ19-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں