بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

محرم کی عدم موجودگی میں عورت کو دفنانے کے لیے قبر میں کون اتارے گا؟

سوال

جس عورت کا کوئی محرم نہ ہو،  اس کی وفات کے بعد اس کو قبر میں کون اتارے گا?

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر عورت کی میت کو قبر میں دفنانے کے لیے اس کا کوئی نسبی، رضاعی، یا سسرالی محرم موجود نہ ہو تو  محرم کے علاوہ دیگر رشتہ داروں میں جو  نیک بزرگ لوگ موجود ہوں وہ عورت کو قبر میں اتارسکتے ہیں،  اور اگر وہ بھی نہ ہو  یا  کافی نہ ہوں تو پھر نیک جوان افراد بھی عورت کو قبر میں اتارسکتے ہیں، اگر کوئی غیر محرم رشتہ دار بھی نہ ہو  تو پھر اجنبی نیک لوگ عورت کو قبر میں اتارسکتے ہیں۔

خلاصة الفتاوي (1/225):

"المرأة إذا ماتت، وليس لها محرم فأهل الصلاح من جيرانها يلي دفنها ... فان كان من المحارم من النسب او الرضاع او من جهة المصاهرة مثل ابن زوجها نزل قبرها، وان لم يكن نزل المشايخ فان لم يكن فالشبان الصلحاء".

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق  (1/ 245):
"فرع: قال الولوالجي: المرأة إذا ماتت، وليس لها محرم فأهل الصلاح من جيرانها يلي دفنها، ولايدخل أحد من النساء القبر؛ لأن مس الأجنبي إياها فوق الثوب يجوز عند الضرورة في حال الحياة فكذا بعد الوفاة. اهـ".

الفتاوى الهندية (1/ 166):
"ويستحب أن يكونوا أقوياء أمناء وصلحاء، كذا في التتارخانية. وذو الرحم المحرم أولى بإدخال المرأة من غيرهم، كذا في الجوهرة النيرة. وكذا ذو الرحم غير المحرم أولى من الأجنبي، فإن لم يكن فلا بأس للأجانب وضعها، كذا في البحر الرائق. ولايدخل أحد من النساء القبر، كذا في محيط السرخسي". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201952
تاریخ11-11-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں