بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مردہ کی طرف سے سلام کا جواب

سوال

قبر پر سلام کرنے پر کیا مردہ اس کا جواب دیتا ہے؟  نیز کیا سلام کی برکت سے مردہ پر سے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایک آدمی دنیا میں کسی کو جانتا تھا اور پھر اس کا انتقال ہوگیا تو جب وہ اس کی قبر پر جاکر سلام کرتا ہے تو صاحبِ قبر سلام کرنے والے کو پہچان بھی لیتا ہے اور اس کے سلام کا جواب بھی دیتا ہے۔ 

سلام چوں کہ سلامتی کی دعا ہے؛  لہذا قبر والے کو سلام کرنے سے قبر والے کے فائدے کی امید رکھنی چاہیے۔

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (4 / 1257):
"وفيه أبلغ الرد لقول بعض الشافعية وغيرهم: إن الأولى عليكم السلام، لأنهم ليسوا أهلاً للخطاب، مع ظهور بطلان تعليلهم؛ لأنه لا فرق من حيث الخطاب بين تقدمه وتأخره على أن الصواب أن الميت أهل للخطاب مطلقاً، لما سبق من الحديث: " «ما من أحد يمر بقبر أخيه المؤمن يعرفه في الدنيا فيسلم عليه إلا عرفه ورد عليه السلام»". 
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201833
تاریخ14-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں