عورت کی غیر محرم علما سے بات چیت کا حکم
سوال
کیا عورت ، علماء سے جو کہ نامحرم ہوں، بات چیت کر سکتی ہے ؟ کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟
جواب
خواتین کے غیر محرم علماء سے براہِ راست رابطے میں کئی مفاسد کا اندیشہ ہے، اس بنا پر بلا ضرورت گفتگو تو جائز نہیں، نیز پیش آمدہ مسائل بھی براہِ راست رابطے کے بجائے گھر کے محرم مردوں (شوہر ، بھائی وغیرہ) کے ذریعے معلوم کرلیے جائیں، البتہ اشد ضرورت کی صورت میں پردے میں رہتے ہوئے بقدرِ ضرورت گفتگو کی جاسکتی ہے۔ عورتوں کے مخصوص مسائل کے حوالے سے اور زیادہ پردہ داری مطلوب ہے۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

