بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قیمت میں اضافہ تک غلہ فروخت نہ کرنا

سوال

 ایک شخص غلہ کی خرید و فروخت کرنا چاہتا ہے اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ فصل کے وقت سستےمیں غلہ خرید کر جمع کر لیتا ہے اور دو چار مہینے کے بعد جب غلہ کی قیمت میں اضافہ ہوجاتا ہے تب اسے فروخت کر تا ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

غلہ کی تجارت کرتے ہوئے لوگوں کی ضرورت کے باوجود اسے فروخت نہ کرنا اور اتنی مہنگائی کا انتظار کرنا کہ جس سے لوگوں کو ضرر ہوتا ہو جائز نہیں، حدیثِ مبارک میں ایسے شخص کو ملعون قرار دیا گیا ہے۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (8 / 229):
"قال رَحِمَهُ اللَّهُ: ( وَاحْتِكَارُ قُوتِ الْآدَمِيِّينَ وَالْبَهَائِمِ في بَلَدٍ لم يَضُرَّ بِأَهْلِهَا ) يَعْنِي يُكْرَهُ الِاحْتِكَارُ في بَلَدٍ يَضُرُّ بِأَهْلِهَا؛ لِقَوْلِهِ عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ.  وَلِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الْعَامَّةِ وفي الِامْتِنَاعِ عن الْبَيْعِ ابطال حَقِّهِمْ وَتَضْيِيقُ الْأَمْرِ عليهم؛ فَيُكْرَهُ.  هذا إذَا كانت الْبَلْدَةُ صَغِيرَةً يَضُرُّ ذلك بِأَهْلِهَا، أَمَّا إذَا كانت كَبِيرَةً فَلَايُكْرَهُ؛ لِأَنَّهُ حَابِسٌ مِلْكَهُ".

الدر المختار شرح تنوير الأبصار(6 / 398):
"( و ) كره ( احتكار قوت البشر ) كتين وعنب ولوز ( والبهائم ) كتبن وقت ( في بلد يضر بأهله ) لحديث الجالب مرزوق والمحتكر ملعون فإن لم يضر لم يكره". 
فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201793
تاریخ12-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں