بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مسافر جمعہ کے دن ظہر کے وقت میں کتنی رکعت پڑھے گا؟

سوال

جمعے کے دن مسافر  کے لیے کتنی رکعات ہوں گی،  اگر سات آٹھ مرد ہوں اور وقت بھی نہ نکلا ہو؟

جواب

مسافر اگر جمعہ کے دن شہر میں ہو اور سہولت سے جمعہ کی نماز میں شریک ہونا ممکن ہو تو اسے جمعہ کی نماز میں ہی شریک ہونا چاہیے، یہ بڑی فضیلت والی بات ہے، لیکن بہرحال مسافر کو جمعہ کی نماز میں شریک نہ ہونے کی رخصت بھی شریعتِ مطہرہ نے دی ہے، اس لیے اگر مسافر کسی چھوٹے سے گاؤں میں ہو جہاں جمعہ کی نماز ادا نہیں ہوتی یا  سفر کی مصروفیت کے باعث شہر میں ہونے کے باوجود  جمعہ کی نماز میں شریک نہ ہوسکے تو اسے ظہر کی نماز قصر (دو رکعت) پڑھنی ہوگی۔  البتہ جمعہ کے دن شہر میں ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا مکروہ ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے، اس لیے اگرچہ سات یا آٹھ آدمی ہوں تب بھی شہر میں ہونے کی صورت میں وہ لوگ ظہر کی نماز انفرادی طور پر دو ، دو رکعت پڑھیں گے۔  ہاں! کسی چھوٹے گاؤں یا دیہات میں ہونے کی صورت میں ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنا بہتر ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201774
تاریخ11-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں