بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کا گاڑی خرید کر آگے قسطوں پر خروید وفروخت کرنا

سوال

ہمارے علاقے میں ایک کمپنی ہے جس کا اصول یہ ہے کہ گاڑی خریدنے کا امیدوار کوئی بھی گاڑی ان کے پاس لاتاہے، وہ گاڑی کی قیمت لگا کر اصل مالک کو پیسے دے کر گاڑی کے کاغذات اپنے پاس رکھ لیتے ہیں،  اور پھر یہی گاڑی 8 فیصد کے منافع سے 7 سالوں کے لیے قسطوں پہ دے دیتے ہیں۔ یہ سود کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟  یعنی گاڑی جو بھی ان سے لیتا ہے اس بندے کو پہلے سے یہ پتا ہوتاہے کہ گاڑی کی اصل قیمت کمپنی ادا کرکے پھر کمپنی قسطوں پر 8 فیصد منافع لے گی!

جواب

اس طرح کرنا جائز نہیں   کہ ایک  آدمی پہلے خود مالک سے گاڑی کا سودا کرکے  قیمت مذکورہ  کمپنی  سے دلواکر ان کے پاس کاغذات رکھ کر قسطوں پر خریدے ۔

البتہ کمپنی اگر ازخود گاڑی خرید کر اس کی قیمت ادا کرکے اپنے قبضہ (مع ضمان) میں لینے کے بعد قیمت متعین کرکے قسطوں پر فروخت کردے اور قسطوں کی تاخیر میں اضافی رقم نہ لی جاتی ہو تو  ایسی صورت میں قسطوں پر کاروبار کرنے کے  حوالہ سے جائز ہونے  کی شرائط پائی جانے کی صورت میں یہ جائز ہوگا۔فقط واللہ اعلم 

قسطوں پر کاروبار کے شرعی حکم کی تفصیل کے لیے  درج ذیل لنک ملاحظہ کریں:

 http://www.banuri.edu.pk/bayyinat-detail/%D9%82%D8%B3%D8%B7%D9%88%DA%BA-%D9%BE%D8%B1-%DA%A9%D8%A7%D8%B1%D9%88%D8%A8%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D8%B3-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82%DB%81-%D8%A7%D8%AD%DA%A9%D8%A7%D9%85

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201736
تاریخ10-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں