کیا جمعے کے دن کپڑے دھونا بے برکتی کا سبب ہے؟
سوال
کیا جمعہ کے دن کپڑے دھونا گناہ ہے؟ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حدیث میں ہے کہ جمعے کے دن کپڑے دھونے سےرزق اور مال میں بے برکتی ہونے لگ جاتی ہے?
جواب
جمعے کے دن کپڑے دھونے کی ممانعت کے متعلق کوئی حدیث ہمارے علم میں نہیں آئی، بلکہ اس کے برعکس جمعے کے دن غسل کرنے، صفائی ستھرائی کا اہتمام کرنے اور اچھا لباس پہننے کا تذکرہ کئی روایات میں آیا ہے، اور اس کے لیے لباس دھونے کی ضرورت بھی پیش آسکتی ہے، لہذا جب تک ایسی کوئی حدیث نہ مل جائے، یہ کہنا درست نہیں۔ نیز قرآنِ کریم یا احادیث سے ثبوت کے بغیر کسی عمل کے متعلق بے برکتی اور نحوست کا عقیدہ رکھنا شرعاً درست نہیں۔
"عَنْ سلمان الفارسي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَتَطَهَّرَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ، ثُمَّ ادَّهَنَ أَوْ مَسَّ مِنْ طِيبٍ، ثُمَّ رَاحَ فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، فَصَلَّى مَا كُتِبَ لَهُ، ثُمَّ إِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ أَنْصَتَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ". (صحيح البخاري ، رقم الحديث : ٩١٠)
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ إِنْ كَانَ عِنْدَهُ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ فَلَمْ يَتَخَطَّ أَعْنَاقَ النَّاسِ، ثُمَّ صَلَّى مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْ صَلَاتِهِ ؛ كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ جُمُعَتِهِ الَّتِي قَبْلَهَا ". (سنن أبي داود ، رقم الحديث : ٣٤٣) فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

