بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روپیہ مال نامی ہے

سوال

روپیہ مال نامی ہے کیا؟

جواب

نقدی اور کرنسی کسی بھی ملک کی ہو ، مالِ نامی ہے؛ لہٰذا نصاب پورا ہونے کی صورت میں اس پر زکاۃ فرض ہوگی۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2 / 11):

"(ومنها) كون المال نامياً؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لايحصل إلا من المال النامي". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201728
تاریخ10-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں