بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر بوس و کنار کرتے ہوئے دونوں کی شرم گاہ آپس میں مل جائے تو غسل کا حکم

سوال

اگر میاں بیوی ایک دوسرے سے  بوس و کنار کر رہے ہیں کپڑے بھی پہن رکھے ہیں۔اگر بوس و کنار کرتے ہوئے دونوں کی شرم گاہ آپس میں مل جائے مطلب ایک دوسرے کو چھو لیں حال آں کہ کپڑے دونوں  نے پہن رکھے ہیں تو کیا غسل فرض ہو جاتا ہے ؟

جواب

میاں بیوی کے بوس و کنار کے دوران اگر دونوں کی شرم گاہیں صرف آپس میں مل جائیں (دخول اور انزال نہ ہو) اور کپڑے پہنے ہوئے ہوں تو غسل واجب نہیں ہوتا۔

البتہ بیوی سے بوس وکنار کی وجہ سے مذی (پتلا پانی)  نکلنے کی صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے، پاک ہونے کے لیے ناپاک جگہ کو دھولیا جائے، پھر اس کے بعد وضو کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201723
تاریخ10-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں