بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 جُمادى الأولى 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تین سالہ بچی کو چھونے سے حرمت مصاہرت کا حکم

سوال

میں صبح کو نیند سے بیدار ہو ا  تو میں نے  اپنی بیوی کو چھونے کے لیے اپنے  ہاتھ  اٹھائے، لیکن میرا ہاتھ میری چھوٹی سی بچی کی ران پر لگا جس کی عمر 3تین یا 4سال کے قریب ہے۔ کیا حرمت ثابت ہوگی؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں  میاں بیوی کا نکاح برقرار ہے، حرمتِ مصاہرت کے لیے بچی کی عمر  کا کم از کم نوسال ہونا ضروری ہے،  اس سے کم عمر میں حرمتِ  مصاہرت ثابت نہیں ہوتی۔

الفتاوى الهندية (1/ 274):

"فلو أيقظ زوجته ليجامعها فوصلت يده إلى بنته منها فقرصها بشهوة وهي ممن تشتهى يظن أنها أمها حرمت عليه الأم حرمةً مؤبدةً، كذا في فتح القدير". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012201722
تاریخ10-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں