بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مولف کی کتاب پر کوئی فلم بنائے تو مولف گناہ گار ہوگا؟

سوال

1:ایک مسلمان آدمی ہے،  وہ ایک حقیقی کہانی لکھتا ہے، اور وہ اپنی کہانی کسی دوسرے آدمی کو بیچتا ہےاور وہ دوسرا آدمی مسلم ہو یا غیر مسلم اس کو فلماتاہے تو کیا پہلے والے آدمی کا اس کہانی کے بیچنے کا پیسہ لینا جائز ہے؟

2: اصلاحی ویڈیو بنانا جائز ہے یا نہیں؟  جیسے کسی ویڈیو میں غیبت کو پیش کرنا غیبت کتنا بڑا گناہ ہے ؟

جواب

1: صورتِ  مسئولہ میں پہلا شخص جس نے کتاب لکھ کر اس کا نسخہ آگے بیچا ہے اگر اسے معلوم نہیں ہو کہ اس سے کتاب خریدنے والے کا ارادہ اس کتاب پر فلم بنانے کا ہے تو وہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا اور اگر اسے معلوم ہو کہ اس سے کتاب خریدنے والے کا ارادہ اس کتاب پر فلم بنانے کا ہے تو ایسی صورت میں اس کو  کہانی بیچنا بھی گناہ ہے۔

2: اگر اصلاحی ویڈیو  میں جان دار کی تصاویر نہ ہوں اور اس میں کوئی موسیقی (مثلاً بیک گراونڈ میوزک وغیرہ) نہ ہو تو ایسی ویڈیو بنانے کی گنجائش ہے۔

أحكام القرآن للجصاص ت قمحاوي (3 / 296):
وقوله تعالى: {ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} نهي عن معاونة غيرنا على معاصي الله تعالى".

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 391):

"(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمراً)؛ لأن المعصية لاتقوم بعينه بل بعد تغيره". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012201703
تاریخ09-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں