بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قصر نماز کا طریقہ

سوال

 براہِ  کرم قصر نماز کا مکمل طریقہ بتا دیں!

جواب

واضح رہے قصر نماز اس وقت پڑھی جائے گی جب کوئی شخص اپنے شہر یا بستی سے باہر  48 میل (سوا ستتر کلومیٹر) یا اس سے زیادہ مسافت کے سفر کے ارادہ سے نکلے، اور اس شخص کا ارادہ پندرہ دن سے کم قیام کا ہو، بشرطیکہ جہاں قیام کر رہا ہے وہ جگہ مسافر کا وطنِ  اصلی یا پہلے سے وطنِ اقامت نہ ہو، تو یہ شخص قصر پڑھے گا۔

قصر کا مطلب یہ ہےکہ ہر چار رکعت والی فرض دو پڑھے گا، مغرب کی نماز حسب سابق تین رکعت ہی پڑھی جائیگی، سنتوں  کا حکم دورانِ  قصر یہ ہے کہ فجر  کی سنتیں بہرحال پڑھنی ہوں گی۔ اس کے علاوہ باقی نمازوں کی موکدہ  سنتیں نہ پڑھنے کا اختیار ہوگا، البتہ سفر جاری نہ ہو تو پڑھنا افضل ہے۔  نیز وتر کی نماز بھی واجب رہے گی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201694
تاریخ09-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں