بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کہانی لکھ کر کمانا

سوال

ایک آدمی ایک حقیقت پر کہانی لکھتا ہے،  پھر وہ کہانی دوسرے کو بھیجتا ہے،  دوسرا آدمی اس کو کیمرے میں قید کرکے ویڈیو بناتا ہے تو پہلے آدمی کا پیسہ لینا اور دوسرا آدمی کا ویڈیو بنانا کیسا ہے؟ اس کے ذریعے ایک اچھا میسیج دیا جارہاہو۔

جواب

صورتِ  مسئولہ میں اگر کہانی لکھنے والا شخص اپنی کہانی میں کسی  قسم کا فحش یا غیر اخلاقی  مواد شامل نہیں کرتا اور کہانی فروخت کر دیتا ہے، اور خریدار اپنے اختیار سے اس کہانی کی عکس بندی کرتا ہے، اور اس میں کسی قسم کی میوزک و جان دار  کو شامل نہیں کرتا تو اس صورت میں دونوں کی کمائی حلال ہوگی۔  البتہ اگر خریدار عکس بندی کے دوران موسیقی یا جان دار کی ویڈیو بھی شامل کرتا ہے تو اس صورت میں خریدار کی کمائی حلال طیب نہ ہوگی۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201682
تاریخ08-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں