بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیوی کی طرف تین چیزیں پھینک کر کہنا یہ تیرے وہ ہیں

سوال

مرد نے عورت کے سامنے تین چیزیں پھینکیں اور کہا کہ یہ تیرے وہ ہیں۔  مرد کہتا ہے کہ میری نیت طلاق کی تھی،  کیا اس صورت میں طلاق ہو جائے گی اور کتنی ہوں گی؟

جواب

واضح رہے کہ وقوعِ  طلاق کے لیے طلاق یا اس کے ہم معنی الفاظ یا کنائی الفاظ کی بنیتِ  طلاق بیوی کی طرف نسبت کرنا یا اس کی طرف اشارہ کرکے کہنا شرعاً ضروری ہوتا ہے،  پس زبان سے طلاق کے الفاظ ( خواہ صریح ہوں یا کنائی ) کہے بغیر صرف بیوی کی طرف تین چیزیں پھینکنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی، چاہے طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو. اور یہ تیرے وہ ہیں، کہنے سے بھی طلاق نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية؛ فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكماً؛ ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس وإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله: أنت طالق هكذا، كما سيأتي، وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكر لفظاً صريحاً ولا كنايةً لايقع عليه، كما أفتى به الخير الرملي وغيره، وكذا ما يفعله بعض سكان البوادي من أمرها بحلق شعرها لايقع به طلاق وإن نواه". ( ٣ / ٢٥٤)  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201671
تاریخ08-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں