بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

آن لائن اکیڈمی میں پڑھانے والے قاری صاحب کو بچوں کو اکیڈمی سے ہٹ کر ذاتی طور پر پڑھانا

سوال

ایک قاری صاحب آن لائن اکیڈمی (جس میں قرآنِ پاک  ناظرہ  اور تجوید سکھائی جاتی ہے)  میں پڑھاتے ہیں تو  کیا وہ بچوں کو اپنی طرف کر سکتےہیں؟  آیا ایسا کرنا اس قاری صاحب کے لیے جائز ہے یا نہیں؟  دوسرا مسئلہ یہ ہے اگر کوئی ریفرنس آجائے  تو  کیا اس ریفرنس کو وہ قاری صاحب اپنی طرف کر سکتا ہے ہے یا وہ اکیڈمی کا حق ہوتا ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ آن لائن اکیڈمی میں پڑھانے والے قراءِ  کرام اکیڈمی کے ملازم ہوتے ہیں، ان کا اکیڈمی کےطلبہ کو  کم فیس کی آفر دے  کر اکیڈمی سے ہٹ کر پرائیوٹ طور پر پڑھانا اور اکیڈمی سے اس کے کنٹریکٹ کو ختم کرادینا جب کہ اکیڈمی کی طرف سے اس کی ممانعت بھی ہو ، ادارہ  کے ساتھ دھوکا، خیانت اور معاہدے  کی خلاف ورزی ہے، اس لیے یہ جائز نہیں ہے۔

باقی ریفرنس کا مطلب اگر یہ ہو کہ آن لائن اکیڈمی میں پڑھنے والے بچے  کے توسط سے کوئی اور بھی اسی قاری صاحب سے پڑھنا چاہ رہا ہے اور وہ اس اکیڈمی سے رابطہ کیے بغیر یاکمپنی کے وسیلے سے ہٹ کر  از خود اس قاری صاحب کے پاس آتا ہے تو  قاری صاحب کے لیے اس کو پڑھانا اور اجرت لینا جائز ہوگا، لیکن اگر وہ اس اکیڈمی میں ہی آرہا ہے تو  قاری صاحب کے لیے بچے کو  کم قیمت کی آفر کرکے اپنی طرف کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اگر ریفرنس کا مطلب کچھ اور ہو تو اس کی وضاحت کرکے دوبارہ سوال پوچھا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201655
تاریخ08-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں