بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

توبہ کرتے وقت اللہ تعالیٰ سے وعدہ کرنے کی حیثیت

سوال

اگر کسی نے توبہ کرتے ہوئے اس طرح سے اللہ تعالی سے وعدہ کیا کہ یا اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں اس گناہ  کو نہیں کروں گا، تو کیا یہ وعدہ،  قسم یا نذر شمار کیا جائے گا؟

جواب

توبہ کرتے وقت جب انسان اس قسم کے جملے استعمال کرتا ہے تو اس سے مراد عزم کا اظہار ہوتا ہے،  اس سے اصطلاحی قسم یا نذر مراد نہیں ہوتی؛  لہذا اگر کوئی شخص یہ کہے:یا اللہ میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ میں اس گناہ  کو نہیں کروں گا اور اس سے اس گناہ کا ارتکاب ہو جائے تو اس کے اوپر کسی قسم کا کفارہ لازم نہیں ہو گا۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201613
تاریخ07-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں