بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جھوٹی قسم کھانے والے کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟

سوال

اگر کوئی  قرآن  کی قسم کھا جاتا ہے کسی حساب کے بارے میں،  لیکن پتا ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس کا کیا کرنا چاہیے؟

جواب

اگر کوئی شخص کسی بارے میں قرآن کی قسم کھالے اور پتا ہو کہ یہ شخص جھوٹ  بول  رہا ہے تو اس کا اعتبار کرنا ضروری  نہیں ہے، اس  لیے اس  کی قسم کا اعتبار نہیں کرنا چاہیے،  بلکہ اسے سمجھانا چاہیے کہ جھوٹی قسم کھانا  بہت سخت گناہ اور عذاب کا باعث ہے؛  اس لیے جھوٹی قسم کھانے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔

البتہ اگرمجلسِ  قضا (عدالت  یا  پنچائیت  وغیرہ) میں مدعی کے پاس گواہ نہ ہونے کی صورت میں مدعا علیہ حق کے ثبوت سے انکار کرتے ہوئے قسم کھالے اور جج یا منصف وغیرہ کو اس  کی قسم کے جھوٹا ہونے کا ذاتی طور پر علم ہو، لیکن اس  کے جھوٹا ہونے پر کوئی ثبوت نہ ہو  تو پھر جج کو اس کی قسم کا عتبار کرتے ہوئے مدعی کے دعویٰ کو خارج کرنا پڑے گا۔ 

تاہم اس صورت میں جھوٹی قسم کی وجہ سے مدعی کا اگر نقصان ہوا تو وہ روزِ قیامت اسے دینا ہوگا، نیز جانتے بوجھتے جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہوں میں سرِ فہرست ہے، اس لیے بہرصورت  احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ایسے شخص کی فہمائش کی کوشش کرکے اسے جھوٹی قسم سے باز رکھا جائے۔  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201601
تاریخ06-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں