بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

واٹساپ پر خواتین کا گروپ بناکر مسائل بتانا

سوال

چند خواتین نے واٹس ایپ پر ایک گروپ بنایا ہے اور یہ خواتین اپنے مسائل ایک مفتی صاحب سے پوچھتی ہیں اور وہ جو جواب دیتے ہیں وہ اس گروپ کی تمام خواتین سن سکتی ہیں،سوال یہ ہے کہ نامحرم مفتی صاحب سے خواتین کا مسئلہ پوچھنا کیسا ہے؟اور واٹس ایپ پر اس قسم کے گروپ بنانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

خواتین کے صوتی پیغام، اس کو محفوظ کرنے اور اس ذریعے سے رابطہ کرنے میں کئی مفاسد کا اندیشہ ہے، اس لیے صوتی پیغامات کے ذریعے مسائل کے بیان سے یا واٹس ایپ پر خواتین کے اس طرح گروپ بنانے سےاحتراز کیا جائے، خواتین کو مسئلہ درپیش ہو تو وہ شوہر یا محرم کے ذریعے کسی عالم سے دریافت کروالیں، اگر کسی وجہ سے یہ ممکن نہ ہو  تو اپنے پیش آمدہ مسئلہ کا کسی معتبردارالافتاء   سے رابطہ کرکے حل دریافت کرلیا جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201530
تاریخ05-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں