بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے ساتھ کھانے کا حکم

سوال

میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ غیر مذہب (ہندو) کے  ساتھ  کھانے  پینے  یا  اس  کے  گھر  سے  کھانے  پینے اور مزید یہ کہ اہلِ  کتاب کے ساتھ یا اس کے گھر سے کھانے پینے کے بارے میں کیا احکامات ہیں؟ 

جواب

غیر مسلم کے ہاتھ اور منہ پر ظاہری نجاست نہ لگی ہو تو اس کے ساتھ کھانا  کھانے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ غیر مسلم ہندو ہو یا عیسائی یا کچھ اور. البتہ ایسا اختلاط جس سے دینی حمیت ختم ہونے کا اندیشہ ہو  تو  ایسے کفار  سے میل جول رکھنے اور ان کے ساتھ کھانے پینے سے احتیاط کرنا چاہیے۔ اور ان سے دلی تعلق بہر حال ناجائزہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201513
تاریخ04-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں