بیوی کو ماسی ( خالہ) کہنا
سوال
میاں، بیوی گھر کے کام میں مصروف تھےکہ شوہر نے بیوی کو کہا: ’’ماسی ( یعنی خالہ) آگے ہو‘‘. مطلب کام میں شامل ہو، جب کہ ایسا کہنا کسی غصہ یا کسی اور ظہار وغیرہ کی نیت سے نہ تھا۔تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کفارہ اگر لازم ہے تو کفارہ کیا ہو گا؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں دونوں کے درمیان نکاح بدستور قائم ہے، مذکورہ الفاظ کہنے کی وجہ سے نہ طلاق ہوئی اور نہ ہی ظہار۔ فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
فتویٰ نمبر
144012201499
تاریخ03-10-2019

