بینک کو کرایہ پر جگہ فراہم کرنا
سوال
جو مکان یا بلڈنگ اچھاکرایہ نہ ملنے کی صورت میں بینک کو کرایہ پر دیا جائے اور اس جگہ کا کرایہ بینک سے وصول کیا جائےتو وہ ہمارے استعمال میں خرچ کرنا صحیح اور جائز ہے یا نا جائز ہے؟
جواب
بینک ایک سودی ادارہ ہے، جہاں سودی لین دین ہوتاہے، جو گناہِ کبیرہ ہے، اور قرآنِ کریم میں اس معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول ﷺکے ساتھ جنگ کے متردف قرار دیاگیاہے، ایسے سودی ادارےکواپنی جائیداد کرایہ پردینا گناہ کے کام میں معاونت ہے جوکہ شرعاً ناجائزہے، اورجوکرایہ بینک ادا کرے گا، ظاہرہے وہ اپنی سودی آمدنی سے ادا کرے گاجو کہ جائز نہیں۔لہذاکسی بھی بینک کو اپنی جائیداد کرایہ پر دینا اور کرایہ استعمال میں لانا درست نہیں ہے۔
یادرکھیں! حرام چاہے جتنا بھی زیادہ نظر آئے، بالآخر اس کی انتہا ہلاکت، بربادی، بے برکتی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی ہے۔ اس کے بالمقابل حلال میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے ساتھ ساتھ برکت ہی برکت ہے۔ لہذا قلیل حلال پر قناعت کی جائے اور کثیر حرام کی طلب نہ کی جائے۔فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

