بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جنابت کی حالت میں تسبیح کو ہاتھ لگانا یا ذکر واذکار کرنا

سوال

بیوی سے ملنے کے بعد تسبیح کو لگاۓ ہوۓ ہاتھ سے تسبیح ناپاک ہو جاتی یا نہیں؟ یعنی نہانے کے بعد اس پر ذکر کرنے سے ہاتھ یا جاۓ نماز پر رکھنے سے ہاتھ یا جاۓ نماز ناپاک تو نہیں ہو جاتا؟

جواب

بیوی سے ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے بعد اگر ہاتھ پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہوئی ہو تو تسبیح کو ہاتھ لگانے سے وہ ناپاک نہیں ہوتی،   نہانے کے بعد اس پر ذکر کرنے یا جائے نماز پر رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے،  نیز  جنابت کی حالت میں بھی ذکر واذکار کرنا منع نہیں ہے، البتہ غسل سے پہلے ذکر واذکار کرنے یا اوراد وظائف پڑھنے سے پہلے وضو کرلینا بہتر ہے۔ جنابت کی حالت میں قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا اور اسے براہِ راست چھونا منع ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (1 / 293):
"ولا بأس) لحائض وجنب (بقراءة أدعية ومسها وحملها وذكر الله تعالى، وتسبيح).

"(قوله: ولا بأس) يشير إلى أن وضوء الجنب لهذه الأشياء مستحب كوضوء المحدث". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201482
تاریخ03-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں