بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 ربیع الثانی 1448ھ 07 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کچا گوشت کھانے کا حکم

سوال

دنیا کے کئی ممالک میں، خصوصاً مشرقِ وسطٰی کے ممالک میں کچا گوشت کھانے کا رواج ہے۔ آپ سے معلوم کرنا تھا کہ  اگر جانور حلال ہو اور ذبیحہ شرعی طریقہ کے مطابق کیا گیا ہو، تو کیا کچا گوشت یا بغیر پکائے گوشت یا قیمہ کو کھانا جائز ہے؟

جواب

اگر کوئی گوشت حلال جانور کا ہو اور حلال طریقہ سے ذبح کیا گیا ہو تو اس کے حلال ہونے کے  لیے پکانا ضروری نہیں ہے، اس کو بغیر پکائے بھی کھانا جائز ہے، خواہ وہ گوشت ہو یا قیمہ،  بشرطیکہ وہ مضر صحت نہ ہو۔

کفایت المفتی میں ہے:

’’ گوشت کچا کھانا جائز ہے،  پکانا حلت کی شرط نہیں ہے ۔ محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ‘‘۔  (کفایت المفتی جلد 8) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012201464
تاریخ02-10-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں