بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گروی کے گھر میں کرایہ دے کر رہنا

سوال

اگر کوئی شخص اپنا گھر گروی رکھتا ہے،  پھر وہ اسی گھر میں کرایہ دے کر رہے تو کیا یہ درست ہے؟

جواب

 مرتہن (جس کے پاس گروی رکھوائی جائے) کا مالِ  مرہون (گروی رکھی ہوئی چیز) سے فائدہ اٹھانا  شرعاً ممنوع ہے؛  ممنوع اس لیے ہے کہ وہ نفع ربوا (سود) ہے ۔

"لاَیَحِلُ لَه اَنْ یَنْتَفِعَ بِشَیٍٴ مِنه بِوَجْه مِنَ الْوُجُوه إنْ أذِنَ لَه الْرَّاهنُ؛ لأنَّه أذِنَ لَه في الْرِبَوا". (الشامیة ج۵/ ص۳۱۰)

" وَالْغالِبُ مِنْ أحْوَالِ النَّاسِ أنَّهمْ إنَّمَا یُرِیْدُونَ عِنْدَ الْدَفْعِ اَلاِنْتِفَاعَ وَلَولَاه لَمَا أعْطَاه الْدَّرَاهمَ، وَهذا بِمَنْزِلَةِ الْشَرْطِ؛ لِأنَّ الْمَعْرُوفَ کَالْمَشْرُوطِ وَهوَ یُعِیْنُ الْمَنْعَ". (الشامیة، ج۵/ ص۳۱۱)

غرض فقہاءِ  کرام کے نزدیک کسی بھی صورت میں مالِ  مرہون سے فائدہ اٹھا نا ربو ا اور سود ہے؛ اس لیے رہن کی اشیاء سے مرتہن کے لیے مطلقاً انتفاع جائز نہ ہوگا۔ اور راہن کا اس گھر میں رہ کر کرایہ ادا کرنا اسی کی ایک صورت ہے، اپنی مملوکہ چیز کا کرایہ ادا کر رہا ہے۔ (امدادالفتاوی ج۳/ ص۴۶۰۔ فتاوی رشیدیہ ص۵۲۰۔ جدید فقہی مسائل ج۱/ ص۲۵۷) فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201442
تاریخ29-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں