بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیمرہ مین کی تنخواہ کا حکم

سوال

جو بندہ میڈیا میں کام کرتا ہے اس کی تنخواہ کا کیا حکم ہے؟ آیا حلال ہے یا حرام؟ نیز وہ میڈیا کے کیمرہ مین ہیں۔

جواب

جو شخص میڈیا میں کیمرہ مین  ہو اس کی تنخواہ حلال نہیں۔ تبیین الحقائق میں ہے:

"(و لایجوز علی الغناء و النوح و الملاهى ) لأن المعصیة لا یتصور استحقاقها بالعقد فلایجب علیه الأجر ... و إن أعطاه الأجر و قبضه لایحل له"· (کتاب الإجارة ، باب الإجارة الفاسدة ج:6  ص: 118 و 119 ط:سعید) فقط و اللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201436
تاریخ26-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں