بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو نماز کیسے توڑیں؟

سوال

نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو نماز کو کس طرح توڑا جائے؟ مطلب  سلام پھیرنا چاہیے یا نہیں؟

جواب

نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے اور از سر نو نماز پڑھنا چاہے تو نماز کے منافی  کوئی عمل کرکے  دوبارہ نماز پڑھی جائے، تاہم سلام پھیر کر نماز سے نکلنا بہتر ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1 / 603):

"(قوله: واستئنافه أفضل) أي بأن يعمل عملاً يقطع الصلاة، ثم يشرع بعد الوضوء، شرنبلالية عن الكافي. وفي حاشية أبي السعود عن شيخه: فلو لم يعمل ما يقطع الصلاة بل ذهب على الفور فتوضأ ثم كبر ينوي الاستئناف لم يكن مستأنفاً بل بانياً. اهـ. قلت: هذا ظاهر في المنفرد؛ لأن ما نواه هو عين صلاته من كل وجه، بخلاف الإمام أو المقتدي، تأمل". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201426
تاریخ24-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں