بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

30 ربیع الثانی 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زمین کا بیلوں کے سینگوں پر ہونے کی روایت کا حکم

سوال

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف ایک قول منسوب  ہے کہ زمین دو بیلوں کے سینگوں پر ہے، تفصیل عنایت فرمایئے۔

جواب

واضح رہے کہ یہ روایت اسرائیلیات میں سے ہے، اور عقیدہ  قائم کرنے  کے  قابل نہیں، اور محدثین نے اس حدیث کو موضوع  لکھا ہے ۔

الأسرار المرفوعة في الأخبار الموضوعة - (1 / 447):

"ومنها: أن يكون الحديث مما تقوم الشواهد الصحيحة على بطلانه  ... ومن هنا حديث: إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض و هي الزلزلة".

اللؤلؤ المرصوع (1 / 52):

"حديث "إن الأرض على صخرة، والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة" موضوع، لكن أخرج نحوه ابن أبي الدنيا وأبو الشيخ، من قول ابن عباس".

المنار المنيف  (1 / 78):

"ومن هذا حديث "إن الأرض على صخرة والصخرة على قرن ثور، فإذا حرك الثور قرنه تحركت الصخرة فتحركت الأرض، وهي الزلزلة" والعجب من مسود كتبه بهذه الهذيانات". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201425
تاریخ24-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں