بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کرایہ پر چلنے والی گاڑیوں پر زکاۃ کا حکم

سوال

میرے پاس دو سوزکی (گاڑی) ہیں،  جن کی کمائی سے میں اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا ہوں،  کیا ان گاڑیوں کی کمائی پر یا ان گاڑیوں پر زکاۃ  دینا واجب ہے؟

جواب

صورتِ  مسئولہ میں مذکورہ دونوں گاڑیوں کی ویلیو پر زکاۃ واجب نہیں، اسی طرح ان سے  حاصل ہونے والی آمدنی جو سال بھر ضروریات میں خرچ ہوجاتی ہو اس پر بھی زکاۃ نہیں، البتہ آمدنی میں سے جتنی رقم محفوظ رہتی ہو اگر وہ نصابِ زکاۃ (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت)  کے مساوی یا اس سے زائد ہو، یا اگر  سائل پہلے سے صاحبِ  نصاب ہو تو اس صورت میں محفوظ رہنے والی رقم کا ڈھائی فیصد (سال پورا ہونے پر) بطورِ زکاۃ ادا کرنا آپ پر واجب ہوگا۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201414
تاریخ21-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں