بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استعمال کی اشیاء پر زکاۃ

سوال

جہیز میں جو چیزیں دی جاتی ہیں، جیسے کچا کپڑا، الیکٹرانک کی چیزیں، برتن جو سالوں استعمال میں نہیں آتے، کافی سال بعد استعمال میں آتی ہیں، ان چیزوں پر زکاۃ دینی چاہیے یا نہیں؟

جواب

جہیز  میں دی جانے والی چیزیں مثلاً  بغیر سلا ہوا کپڑا، الیکٹرانک آئٹم اور برتن وغیرہ پر زکاۃ ادا کرنا واجب نہیں، اگرچہ یہ چیزیں سالوں بعد استعمال میں آتی ہوں۔

الفتاوى الهندية (5 / 36):

"( ومنها فراغ المال ) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة ، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة".  فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201380
تاریخ18-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں