بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

1 جُمادى الأولى 1448ھ 13 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

حج کی رقم جمع ہونے کی صورت میں پہلے خود حج کرنا چاہیے یا والدین کو حج کروانا چاہیے؟

سوال

میرے پاس حج کے لیے پیسے ہیں اور میں حج کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے والدین نے حج نہیں کیا ہوا ہے، تو کیا پہلے ان کو حج کرانا بہتر ہوگا یا میں پہلے خود حج کرسکتا ہوں؟

جواب

آپ کے پاس حج کے پیسے اور استطاعت ہونے کی وجہ سے آپ پر حج فرض ہوچکا ہے، اس لیے آپ پر لازم ہے کہ آپ پہلے خود حج کر کے اپنے فرض کی ادائیگی کریں، چاہے والدیں نے حج نہ بھی کیا ہوا ہو، البتہ اپنے حج کرنے کے بعد اگر اللہ پاک مزید رقم کا انتظام کروادیں تو اس رقم سے ضرور اپنے والدین کو بھی حج کروادیں، یہ آپ کے لیے بڑی سعادت کی بات ہوگی۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201351
تاریخ18-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں