بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

۱۰۰۰۰ قیمت والی چیز قسطوں پر ۱۵۰۰۰ میں خریدنے کا حکم

سوال

قسطوں پر کوئی چیزخریدنا کیسا ہے، مثلاً:  اگر کوئی چیز  10000 کی ہے اور قسطوں پر 15000 دینے پڑیں تو کیا حکم ہے؟

جواب

قسطوں میں رقم کی ادائیگی کی شرط پر کوئی بھی چیز خریدنا جائز ہے، جس چیز کی قیمت دس ہزار روپے ہو اس چیز کو ادھار میں قسطوں پر پندرہ ہزار روپے میں خریدنا جائز ہے، بشرطیکہ عقد کے وقت قسطوں کی ادائیگی کی مدت اور چیز  کی حتمی قیمت طے کرلی جائے، اور قسطوں کی ادائیگی میں تاخیر ہونے کی صورت میں پیسوں میں اضافہ کی شرط نہ لگائی جائے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201309
تاریخ16-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں