بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

26 ربیع الثانی 1448ھ 09 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

قرض خواہ کو کمیشن پر مال فروخت کرنے کے لیے دینا

سوال

جس سے قرض لیا اسی کو مال کمیشن پر فروخت کرنے کے لیے دینا جائز ہے یانہیں؟  قرض اس شرط پردیناکہ مال مجھے دینا ہے یاغیرمشروط قرض دیا پھرمال بھی اسی کودیا، ان دو نوں میں کون ساجائزہے؛ تاکہ اسی پہ عمل کیاجائے؟

جواب

بصورتِ مسئولہ قرض کو کمیشن پر مال دینے کے ساتھ مشروط نہ کیا جائے، قرض کا معاملہ غیر مشروط ہو، پھر قرض دینے والے کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق مال کمیشن پر فروخت کرنے کے لیے دیا جائے، (یعنی وہ اس مال کے بیچنے کا اتنا ہی کممیشن لے جتنا دوسرے ایجنٹ لیتے ہیں) تو یہ جائز ہے۔ 

اور اگر قرض کی وجہ سے  قرض دینے والا مشروط طور پر  زیادہ کمیشن لے  یا مقروض کا  مال سستا خرید لے تو یہ قرض پر نفع ہونے کی وجہ سے سود ہوگا۔  اسی طرح اگر مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہی کمیشن پر کام کرے، لیکن قرض دینے سے پہلے ان دونوں کا ایسا باہم مالی معاملہ نہ ہو، صرف قرض کی وجہ سے اسے ایجنسی مل رہی ہو تو اس مشروط معاملے سے بھی اجتناب کیا جائے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 63):
"وفي الخانية: رجل استقرض دراهم وأسكن المقرض في داره، قالوا: يجب أجر المثل على المقرض؛ لأن المستقرض إنما أسكنه في داره عوضاً عن منفعة القرض لا مجاناً، وكذا لو أخذ المقرض من المستقرض حماراً ليستعمله إلى أن يرد عليه الدراهم اهـ وهذه كثيرة الوقوع، والله - تعالى - أعلم
". فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144012201303
تاریخ16-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں