بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جہیز کے بقدر وراثت سے حصہ کاٹنا

سوال

اگر والدین اپنی زندگی میں حسبِ  توفیق اپنی بیٹی کو اس کی شادی پر جہیز دیں تو کیا وہ جہیز پر لگنے  والی  رقم اس لڑکی کے والد کی وفات کے بعد اس کی وراثت میں سے کاٹ سکتے ہیں؟ یعنی کہ اگر یہ کہا جائے کہ بیٹی/بہن کو جہیز دے دیا تو وراثت میں سے کاٹ کر دیں گے،  تو کیا یہ درست ہے اسلام میں؟ کیوں کہ جہیز تو والد کی زندگی میں دیا گیا ہے اور وراثت تو والد کی وفات کے بعد ہوتی ہے!

جواب

واضح رہے کہ بیٹی  یا  بہن  کو دیا جانے والا جہیز  والد یا بھائی کی طرف ے ہدیہ ہوتا ہے اور وراثت کا حق مورث (وفات پانے والے) کے انتقال کے بعد ہوتا ہے؛  لہذا جہیز کے بقدر وراثت سے حصہ کاٹنا ناجائز ہے۔

الفتاوى الهندية (1 / 327):
" لو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها، وعليه الفتوى".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201243
تاریخ14-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں