بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

شادی شدہ بہن کا وراثت میں حصہ

سوال

 والد صاحب نے لیز پر دوکان لی  ہو اور ایک 10 مرلے گھر ہو جو اپنا ہو،  والد صاحب کے فوت ہونے کے بعد بچوں کو مل جائے، اور وہی بچے دوکان کا کرایہ ادا کرتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے رزقِ  حلال کماتے ہوں  تو کیا اس دوکان میں شادی شدہ بہن کا حصہ ہوگا؟  اگر اس کا شوہر بھی زندہ ہو اور اس کا گھر بھی الگ ہو؟

جواب

واضح رہے کہ میت کی ملکیت میں جو کچھ بھی ہو، وہ سب ترکہ ہوتا ہے اور تمام ورثاء کا ان کے حصوں کے بقدر اس میں حق ہوتا ہے؛  لہذا جو دکان آپ کے والد نے لی تھی وہ ان کا ترکہ شمار ہوگا اور اس میں آپ کی اس بہن کا حصہ بھی ہوگا جس کا شوہر بھی زندہ ہے اور وہ الگ رہتی ہے۔ تاہم والد کے انتقال کے بعد جو لیز کے  پیسے بھرنے تھے وہ ان کے تمام ورثاء پر ان کے حصوں کے بقدر بھرنا لازم تھا؛ لہذا جس بہن نے اپنے حصے کے پیسے نہیں بھرے، اس کے شرعی حصے سے ان پیسوں کو منہا کیا جاسکتا ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201232
تاریخ14-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں