بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز کے فوراً بعد تعلیم یا درس کا عمل

سوال

 ہماری مسجد میں روزانہ فجرکی نماز کے بعد فضائل اعمال کی تعلیم اور عصر کی نماز کے فورًا بعد درس حدیث ہوتاہے، جس  کی وجہ سے  ہم ان نمازوں کے بعد مسنون تسبیحات نہیں پڑھ  پاتے کیاروزانہ  نماز کے فورًا بعد  درسِ  حدیث دینا درست ہے ؟ اور اگر درست تو کیا روزانہ ان نمازوں کےبعد تسبیحات کارہ جانا ٹھیک ہے؟

جواب

مسلمانوں  کی رہنمائی کے لیے وعظ و نصیحت، دینی کتب  کی تعلیم،  درسِ حدیث وغیرہ انتہائی مفید عمل ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کی زندگی میں فرائض، واجبات اور سنن کو زندہ کرنا ہے؛  اس لیے تعلیم، درسِ حدیث وغیرہ  نمازوں کے بعد  کی  مختصر مسنون تسبیحات  کے بعد شروع کرنا چاہیے۔

الموسوعة الفقهية الكويتية (17 / 230):

"و يكون الاحتساب مكروهًا إذا أدى إلى الوقوع في المكروه."

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201220
تاریخ14-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں