بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 جُمادى الأولى 1448ھ 14 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

پانی کا کوئی حکم دے تو پانی پلانے کا حکم

سوال

کیا کوئی حکم چلائے کہ ہم کو پانی پلاؤ  تو  اس کو پانی پلانا ثواب ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عام حالات میں پانی پلانا ایسا  ثواب کا کام ہے  جس کو فقہ میں ’’مستحب‘‘  کہا جاتا ہے اور مستحب عمل کا حکم یہ ہے کہ کرنے والے کو ثواب ملے گا اور نہ کرنے والا گناہ گار بھی نہیں ہوگا اور نہ ہی قابلِ ملامت ہوگا؛ لہذا اگر کوئی حکم دے کر پانی مانگے تو اسے پانی پلانا ثواب ہے اور پانی نہ پلانا قابلِ ملامت نہیں اور نہ ہی گناہ ہے، الّا یہ کہ حکم دینے والا ایسا ہو جس کی اطاعت واجب ہے، مثلاً: اولاد کے لیے والدین، بیوی کے لیے شوہر۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201210
تاریخ14-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں