بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

جالی والی ٹوپی پہن کر امامت کرانا

سوال

 کالی اور جالی والی ٹوپی پہن امامت کر سکتا ہوں ؟  کوئی حرج ہے کہ نہیں؟

جواب

جالی والی ٹوپی اگر ایسی ہے کہ اس کو پہن کر آدمی معزز مجمع میں جا سکتا ہے، وہ صاف ستھری ہے  اور اس کو پہننا عار کا باعث نہ ہو تو ایسی ٹوپی پہن کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ نیز اگر کالی ٹؤپی پہننے سے کسی کی مشابہت مقصود نہ ہو  تو اس کو پہن کر امامت کرانے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ سفید ٹوپی پہن کر امامت کیجیے، اس میں سنجیدگی اور وقار بھی ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201198
تاریخ13-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں