بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز میں یاد آیا کہ وضو نہیں ہے تو کیا حکم ہے؟

سوال

بعض دفعہ میرا وضو ٹوٹ چکا ہوتا ہے جب کہ اگلی نماز کے وقت یاد نہیں رہتا، اور میں جماعت کے ساتھ شامل ہو جاتا ہوں۔  پھر نماز کے دوران یاد آجاتا ہے تو فوراً  نیت نماز  کی دل میں توڑ دیتا ہوں اور جماعت کے ساتھ شامل رہتا ہوں۔ نمازیوں کے رش اور آگے پیچھے لمبی قطاروں اور ہال کے بھرے ہونے کی وجہ سے نئے وضو کے  لیے اٹھ نہیں پاتا۔  اگرچہ صفیں چیر کر نکلنے کا حکم ہے۔جماعت کے بعد وضو کر کے پوری نماز دوبارہ ادا کر لیتا ہوں۔ میرے لیے کیا حکم ہے؟

 

جواب

اگر نماز کے دوران آپ کو یاد آئے کہ آپ کا وضو نہیں ہے تو آپ کے  لیے حکم یہ ہے کہ آپ جماعت کے دوران ہی جا کر وضو کریں اور از سرِ نو امام کی اقتدا میں  نماز میں شامل ہو جائیں،  بے وضو جماعت کے ساتھ شامل رہنا درست نہیں۔ اگر اکثر ایسے ہوتا رہتاہے تو آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ نماز سے پہلے احتیاطاً وضو کرلیا کریں، تاکہ آئندہ ایسی صورت پیش نہ آئے۔ اگر شرم کی وجہ سے نہیں جاتے تو اس بات کی اجازت ہے کہ ناک یا منہ پر ہاتھ یا کپڑا وغیرہ رکھ کر ایسا انداز اختیار کرلیں، جس سے لوگوں کو اندازا ہوکہ خون نکلا ہے، تاہم ناپاکی کی حالت میں وہاں رہنا درست نہیں ہے۔

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 114):
"(أما) شرائط أركان الصلاة: (فمنها) الطهارة بنوعيها من الحقيقية والحكمية، والطهارة الحقيقية هي طهارة الثوب والبدن ومكان الصلاة عن النجاسة الحقيقية، والطهارة الحكمية هي طهارة أعضاء الوضوء عن الحدث، وطهارة جميع الأعضاء الظاهرة عن الجنابة".
 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144012201191
تاریخ13-09-2019

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں